ڈینگی بخار کیسے پھیلتا ہے اور اس کی علامات کیا ہیں؟

ڈینگی بخار سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

علاج سے زیادہ اگر احتیاطی تعداد اور بچوں کے اقدامات اپنائے جائیں تو ڈینگی سے بچا جاسکتا ہے۔ڈینگی بخار سے بچاؤ کے لئے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اپنائیں۔

Dengue fiver Pakistan 2019 ڈینگی بخار اور بچاؤ

اس بیماری پر قابو پانے کے لیے مچھروں کا خاتمہ کرناضروری ہے دلوں کی افزائش زیادہ تر گھروں میں پانی جمع کرنے کے بدنوں،پودوں کے گملوں پانی کی ٹنکیوں واٹرکولر استعمال شدہ ٹائر اور ایسی جگہیں جہاں بارشوں کا پانی جمع ہوتا ہے تمام جگہوں سے پانی ختم کرنے کی کوشش کریں یا اسے ٹانگ کر رکھیں۔

عالمی مچھروں کو بھگانے کا اسپرے کریں کس پارٹی پینل لوشن یا کریم کا استعمال کریں پوری آستین کے کپڑے پہنے لات کے وقت مچھر مارنے والے جے ٹو ایل ویل اور موٹین استعمال کریں اور خالی فوج علی جان نیٹ مچھر دانی کے اندر کے ارد گرد کے ماحول کو صاف رکھیں۔

ان تمام اقدامات کے باوجود اگر مچھروں کی تعداد میں کمی نہ ہو تو انتظامیہ سے درخواست کر کے علاقے میں مچھر ماس پلی کروائیں

ڈینگی بخار کی علامات

ڈینگی بخار کی مندرجہ ذیل علامات ہو سکتی ہیں

  • ہیں تیز بخار ہونا جسم، پیٹ یا آنکھوں کے پیچھے شدید درد ہونا
  • جسم پر خارش یا سرخ دھبوں کا نمودار ہونا اور بخار ختم ہو جانا
  • ناک یا مسوروں سے خون کا آنا
  • بار بار الٹی ہونا اور غنودگی طاری ہونا
  • کالے رنگ کا پاخانہ آنا یا قبض ہونا
  • لگاتار کراہنا اور سانس لینے میں دشواری پیدا ہونا
  • بہت زیادہ پیاس لگنا یا منہ کا خشک ہونا
  • جسم کا ایک دم سرد ہوجانا کمزوری اور پسینہ آنا
  • دل کی دھڑکن کا تیز ہونا بلڈپریشر کم ہو جانا وغیرہ

اگر ان میں سے کوئی بھی علامت ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں اور اگر بگڑ جائے تو ڈینگی بخار ہیمرجک بخارا میں تبدیل ہو جاتا ہے۔بخار کی اس قسم میں خون سے پلیٹلیس کی تعداد کم ہوجاتی ہے جس سے خون کا دسو شروع ہوجاتا ہے۔ خون میں شامل پلازمہ بھی خارج ہونے لگتا ہے۔ بعض اوقات بلڈپریشر بہت لو ہوجاتا ہے۔ جگر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور متاثرہ شخص کومہ میں چلاجاتا ہے۔

ڈینگی بخار کو چار مختلف منزلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

پہلے مرحلے میں مریض بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اس میں وہ تمام علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں جس سے اس کی تشخیص آسانی سے کی جا سکتی ہے۔

دوسرے مرحلے میں اوپر ذکر کی گئی علامات کے علاوہ مریض کی جلد بڑی ان کو مسوروں سے خون بہنا شروع ہو جاتا ہے ہے اس مسئلے میں مریض کا نظام خون بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

چوتھے مرحلے میں مریض بہت تکالیف برداشت کرتا ہے اور بیماریوں میں مبتلاہوجاتا ہے۔

پہلے اور دوسرے مرحلے میں مریض کا علاج بآسانی ممکن ہے لیکن تیسرے اور چوتھے مرحلے میں مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

اگر آپ اس معلومات سے فائدہ حاصل کریں تو اپنے عزیزوں اور دوستوں کے ساتھ بھی شئیر کریں۔

Leave a Reply

Next Post

Live with Dr. Shahid Masood | GNN | 09 October 2019

Thu Oct 10 , 2019
Live with Dr. Shahid Masood | GNN | 09 October 2019